اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی 'حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای' نے فرمایا ہے کہ جہاں تک معائنوں کی بات ہے اسلامی جمہوریہ ایران غیرملکیوں کی جانب سے اپنی فوجی تنصیبات کے ایک مرکز کے بھی معائنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا.
يہ بات سپريم ليڈر آيت اللہ خامنہ اي نے بدھ كے روز تہران ميں 'يوم پاسدار، بيت المقدس آپريشن اور خرمشہر كي فتح' كي سالگرہ كے موقع پر امام حسين (ع) كالج میں فوجي افسروں كي پاسينگ آؤٹ كي تقريب سے خطاب كرتے ہوئے كہي.
اس موقع پر سپريم ليڈر نے مغربي ممالك كو مخاطب كرتے ہوئے فرمايا كہ وہ آج كل مذاكرات ميں نئي نئي باتيں كرنے لگے ہيں، كہتے ہيں كہ ايراني جوہري سائنسدانوں سے انٹريو لینا چاہتے ہيں، مگر يہ اقدام تفتيش كے مترادف نہیں ہے؟.
انہوں نے مزيد فرمايا كہ میں اس چيز كي ہرگز اجازت نہيں دوں گا كہ غيرملكي اور خارجي عناصر وطن عزيز ايران كے بہادر سائنسدان اور جن لوگوں نے جوہری علم اس ملك كے لئے لایا ان سے بات كرنے چليں.
آيت اللہ امام خامنہ اي نے كہا كہ حكومتي عہديداران بہت بہادري اور سنجيدگي سے آگے بڑھ رہے ہيں مگر يہ بات ياد ركھيں كہ دشمنوں سے مقابلہ صرف پختہ عزم، اتحاد اور يكجہتي سے ہوگا.
انہوں نے مطالبہ كيا كہ جوہري مذاكرات ميں ايراني قوم كي عظمت اور ان كے پيغام كو منظر عام پر لانا چاہئے.
سرحدوں سے دور پراكسي وار كا حوالہ ديتے ہوئے سپريم ليڈر نے فرمايا كہ ميں نے سنا ہے كہ ہمارے دشمن خليج فارس ميں بسنے والے بعض ممالك كے ساتھ ايراني سرحدوں كي جانب پراكسي وار كرانا چاہتے ہيں.
انہوں نے انتباہ كيا كہ وہ لوگ جان ليں، اگر ايسي كسي بھي شيطاني سازش كا سہارا لیا تو اسلامي جمہوريہ ايران سختي سے اپنا رد عمل ظاہر كرے گا.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲